ابنا: پاکستان کے صدر آصف علي زرداري نے بدھ کے روز يوم دفاع پاکستان کے موقع پر اپنے پيغام ميں کہا کہ پاکستان ايک اعتدال پسند ، بردبار ، اور امن پسند ملک ہے جہاں سياسي عمل جمہوري طريقوں سے پروان چڑھ رہا ہے - پاکستان کے صدر نے کہا کہ آج پاکستان کي آزادي و خود مختاري ان لوگوں کي قربانيوں کي مرہون منت ہے جنھوں نے وطن کي آزادي اور دفاع ميں اپني جانوں کا نذرانہ پيش کيا ہے - حقيقت يہ ہے کہ آج پاکستان کي قومي سلامتي اور ارضي سالميت کو جس چيز سے سب سے زيادہ خطرہ لاحق ہے وہ انتہا پسندي ، دہشت گردي اور فرقہ پرست دہشت گردوں کي کاروائياں ہيں جو مسلسل جاري ہيں –پچھلے کچھ ہفتوں سے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوي جيسي دہشت گرد و کالعدم تنظيموں نے پاکستان کے شيعہ مسلمانوں کے خلاف اپني کاروائياں تيز کردي ہيں جن کے دوران اب تک سيکڑوں کي تعداد ميں شيعہ مسلمان مارے جاچکے ہيں- البتہ اس قسم کے فرقہ پرست دہشت گرد عناصر پاکستان ميں خانہ جنگي کي آگ بھڑکانے کے لئے سني مسلمانوں کو بھي نشانہ بناتے ہيں اور انہوں نے بارہا بزرگوں کے مزارات اور درگاہوں پر حملے کرکے دسيوں سني مسلمانوں کو بھي شہيد کيا ہے - ليکن اب تک سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوي، طالبان پاکستان اور ديگر فرقہ پرست دہشتگرد تنظيموں کے گرفتار کئے جانے والے دہشتگردوں کويا تو بعد ميں خاموشي کے ساتھ جيلوں سے رہا کرديا گيا ہے يا انہيں معمولي سزائيں دي گئي ہيں اور يا پھر ايسے اسباب فراہم ہوئے ہيں کہ وہ جيلوں سے بھاگ گئے اور يہ بات کم پاکستان کے صدر آصف علي زرداري کے اس بيان سے بھي منافات رکھتي ہے کہ حکومت دہشت گردي کا مقابلہ کرنے کا پورا تہيہ کئے ہوئے ہے- پاکستان ميں فرقہ پرست دہشت گرد گروہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے کے بعد پوري گستاخي کے ساتھ اس کي ذمہ داري بھي قبول کرتے ہيں اور دلچسپ بات تو يہ ہے کہ ان سبھي گروہوں اور ان کے سرغنوں کو ملک کي ايجنسياں اور سيکورٹي ادارے اچھي طرح جانتے ہيں –بنابريں پاکستان کے عوام کو ملک کے صدر اور ديگر اعلي حکام سے توقع ہے کہ وہ دہشت گردوں کا صفايا کرنے کا وعدہ کرنے کے بجائے عملي طور پر سنجيدگي کے ساتھ ان کے خلاف کاروائياں کريں گے تاکہ پاکستان ميں اس طرح کي دہشت گردانہ کاروائيوں کي تکرار کو روکا جاسکے-اس ميں شک نہيں کہ پاکستان کي فوج علاقے کي ايک طاقتور اور پيشہ ور فوج ہے اسي لئے پاکستان کے عوام کے لئے يہ بات قابل قبول نہيں ہے کہ فوج اور سيکورٹي ايجنسياں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے ميں کسي بھي طرح کي سستي يا کمزوري کا مظاہرہ کريں-
.....
/169